کوئی امید بر نہیں آتی

کوئی امید بر نہیں آتیکوئی صورت نظر نہیں آتی موت کا ایک دن معین ہےنیند کیوں رات بھر نہیں آتی آگے آتی تھی حال دل پہ ہنسیاب کسی بات پر نہیں آتی جانتا ہوں ثواب طاعت و زہدپر طبیعت ادھر نہیں آتی ہے کچھ ایسی ہی بات جو چپ ہوںورنہ کیا بات کر نہیں آتی … Read more