romantic poetry urdu – romantic poetry lovers

0
444

میری جان یہ میری آنکھیں

تمہیں مسلسل دیکھنے کی ضد میں ہیں

romantic poetry urdu - romantic poetry lovers
romantic poetry urdu – romantic poetry lovers

ہائے ! کیسے میں تعلق کو چھپا کر رکھوں

ہائے ! اس شخص کی باتیں ہیں سنانے والی

romantic poetry urdu - romantic poetry lovers
romantic poetry urdu – romantic poetry lovers

مجھکو مجھ میں جگہ نہیں ملتی

تو ہے موجود اس قدر مجھ میں

romantic poetry urdu - romantic poetry lovers
romantic poetry urdu – romantic poetry lovers

پاکیزہ ہو میرا رشتہ اس سے اس قرر مولا

کہ جنت تک اس کا ہاتھ ،میرے ہاتھ میں ہو

romantic poetry urdu - romantic poetry lovers
romantic poetry urdu – romantic poetry lovers

دل کرتا ہے ہر وقت تیرے صدقے اتاروں

بھلا اس قدر بھی حسیں ہوتا ہے محبوب کسی کا

romantic poetry urdu - romantic poetry lovers
romantic poetry urdu – romantic poetry lovers

لو تھام کر تیرے ہاتھ ماہی

تجھے سونپ دی اپنی زات

romantic poetry urdu - romantic poetry lovers
romantic poetry urdu – romantic poetry lovers

کھونا اور پانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ محبت نہیں ہوتی

محبت تو بس محبت ہوتی ہے

ادب ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ احترام ہوتا ہے

کسی کی پکار پر لبیک ہوتا ہے

romantic poetry urdu - romantic poetry lovers
romantic poetry urdu – romantic poetry lovers

جس گھڑی تم سے بات ہوتی ہے

وہ ہی گڑی میری کائنات ہوتی ہے

romantic poetry urdu - romantic poetry lovers
romantic poetry urdu – romantic poetry lovers

اب آپ چلا سکتے ہیں اپنی من مرضیاں

ہم نے کر دی ہے یہ زندگی حوالے آپکے

romantic poetry urdu - romantic poetry lovers
romantic poetry urdu – romantic poetry lovers

مجھے پھر سے پکارو میرا نام لیکر ۔۔۔۔۔۔۔

مجھے محسوس کرنا خود کو تمہارے ہونٹوں پر

romantic poetry urdu - romantic poetry lovers
romantic poetry urdu – romantic poetry lovers

دیکھو۔۔! جب بھی ملنے آنا

دیکھو۔۔! جب بھی ملنے آنا
چوڑی ،کنگن ساتھ میں لانا
ضد ہے ۔۔”تم پہناوُ گے”
شاعری ساتھ سناوُ گے
تب ہی ملنے آؤں گی
باتیں خوب سناوُں گی
تم بس چپ ہی سنتے رہنا
آنکھیں میری پڑھتے رہنا
سمجھ تو تم بھی جاوُ گے
لیکن بول نہ پاوُ گے
وقت وہ کتنا پیارا ہو گا
ہاتھ میں ہاتھ تمہارا ہو گا ….!!!!

ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ-

میری یہی عادت آپ کو ہمیشہ یاد رہے گی مُحترمہ 💑🙃
نا کوئی مطلب نا کوئی گِلہ ،جب بھی مِلا مُسکرا کر مِلوں گا ۔

آپ پہلو میں جو بیٹھیں تو سنبھل کر بیٹھیں۔۔🥰

دل بے تاب کو عادت ہے مچل جانے کی۔۔۔۔😘🙈

مَیں آپ کا ہی تَو _____ مَسئلہ ہوں😊😉

مُجھ کو سوچئے کہ __ مَیرا حَل نکلے🥰🙈

ایک طرف خوابوں کا شوق ایک آپکی یاد کا مزہ 😍😋

آپ ھی بتاؤ سو کر آپکا دیدار کروں یا! جاگ کر آپکو یاد کروں محترمہ 💑😘

❤️❤️❤️❤️

امیدِ سحر یا غمِ شب کچھ بھی تو نہیں ھے
ہم جی رہے ھیں اور سبب کچھ بھی نہیں ھے

امیدِ سحر یا غمِ شب کچھ بھی تو نہیں ھے
ہم جی رہے ھیں اور سبب کچھ بھی نہیں ھے

اس شہر میں کیا کچھ نہیں تھا جنگ سے پہلے
پر خالی گھروں کے سوا اب کچھ بھی نہیں ھے

مجھ میں جو اندھیرا ھے اگر تم کو دکھا دوں
تم چیخ پڑو اور کہو شب کچھ بھی نہیں ھے

یہ بات سچ ھے ادھورا ہوں میں تیرے سوا لیکن
یہ بات بھی سچ ھے تو سب کچھ بھی نہیں ھے

حیران نہ ہو دیکھ کر ، مجھ کو کہ یہی حال
ہوتا ھے محبت میں عجب کچھ بھی نہیں ھے

❤️❤️❤️❤️

جس آنکھ نے دیکھا تجھے،اس آنکھ کو دیکھوں،
ہے اس کے سوا کیا تیرے دیدار کی صورت۔

صورت میری آنکھوں میں، سمائے گی نہ کوئی،
نظروں میں بسی رہتی ہے، سرکار کی صورت۔

❤️❤️❤️❤️

میں نے کہا وہ پیار کے رشتے نہیں رہے
‎کہنے لگی کہ تم بھی تو ویسے نہیں رہے.

میں نے کہا وہ پیار کے رشتے نہیں رہے
‎کہنے لگی کہ تم بھی تو ویسے نہیں رہے.

‎پوچھاگھروں میں کھڑکیاں کیوں ختم ہوگئیں؟
‎بولی کہ اب وہ جھانکنے والے نہیں رہے.

‎پوچھا کہاں گئے مرے یارانِ خوش خصال
‎کہنے لگی کہ وہ بھی تمہارے نہیں رہے.

‎اگلا سوال تھا کہ مری نیند کیا ہوئی؟
‎بولی تمہاری آنکھ میں سپنے نہیں رہے.

‎پوچھا کروگی کیا جو اگر میں نہیں رہا؟
‎بولی یہاں تو تم سے بھی اچھے ، نہیں رہے.

‎آخر وہ پھٹ پڑی کہ سنو اب مرے سوال
‎کیا سچ نہیں کہ تم بھی کسی کے نہیں رہے.

‎گو آج تک دیا نہیں تم نے مجھے فریب
‎پر یہ بھی سچ ہے تم کبھی میرے نہیں رہے.

‎اب مدتوں کے بعد یہ آئے ہو دیکھنے
‎کتنے چراغ ہیں ابھی ، کتنے نہیں رہے!

‎میں نے کہا مجھے تری یادیں عزیز تھیں
‎ان کے سوا کبھی ، کہیں اُلجھے نہیں رہے.

‎کیا یہ بہت نہیں کہ تری یاد کے چراغ
‎اتنے جلے،کہ مُجھ میں اندھیرے نہیں رہے.

‎کہنے لگی تسلّیاں کیوں دے رہے ہو تم
‎کیا اب تمہاری جیب میں وعدے نہیں رہے.

‎بہلا نہ پائیں گے یہ کھلونے حروف کے
‎تم جانتے ہو ہم کوئی بچّے نہیں رہے.

‎بولی کریدتے ہو تم اُس ڈھیر کو جہاں.
‎بس راکھ رہ گئی ہے ، شرارے نہیں رہے.

‎پوچھا تمہیں کبھی نہیں آیا مرا خیال
‎کیا تم کو یاد یار پرانے نہیں رہے.

‎کہنے لگی میں ڈھونڈتی تیرا پتہ ، مگر
‎جن پر نشاں لگے تھے ، وہ نقشے نہیں رہے.

‎تیرے بغیر شہرِ سخن سنگ ہو گیا
‎ہونٹوں پہ اب وہ ریشمی لہجے نہیں رہے.

‎جن سے اُتر کے آتی دبے پاؤں تیری یاد
‎خوابوں میں بھی وہ کاسنی زینے نہیں رہے.

‎میں نے کہا ، جو ہو سکے ، کرنا ہمیں معاف
‎تم جیسا چاہتی تھیں ، ہم ایسے نہیں رہے.

‎ہم عشق کے گدا ، تیرے در تک تو آ گئے
‎لیکن ہمارے ہاتھ میں کاسے نہیں رہے.

‎اب یہ تری رضا ہے،کہ جوچاہے، سو کرے
🥀‎ورنہ کسی کے کیا ، کہ ہم اپنے نہیں رہے

❤️❤️❤️❤️

نا جانے نومبر کى یہ سرد ہوائیں
کیوں مضطرب کرتى ہیں ۔۔۔

نا جانے نومبر کى یہ سرد ہوائیں
کیوں مضطرب کرتى ہیں ۔۔۔
حالانکہ کسى اداس لمحہ کى یاد نہیں
”” جڑى ان ہواؤں سے۔۔۔
نا کوئى ادھورى دعاجڑى ہے ان خاموش فضّاؤں سے…•••
لیکن پھر بھی جب ان سرد ہواؤں کا لمس””’
”” بخار سے تپتے جسم کو محسوس ہوتا ہے ۔۔۔
تو اداسى کا ایک عجب ہى سحر طارى ہوتا ہے۔۔۔
نا جانے یہ سرد ہوائیں کس کی
یادوں کا ارمغاں دے جاتى ہیں۔۔۔””’
””’پھر ان ہى ندیدہ یادوں کا اسیر بنادیتى ہیں ۔۔۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here