love whatsapp status- romantic poetry love

4
435

یہ جو مسکان ہے ، بے ساختہ لبوں پہ میرے

متاع جاں ۔۔۔ تیرے خیال کی بدولت ہے

love whatsapp status- romantic poetry love
love whatsapp status- romantic poetry love

تم سانس ہو ۔۔۔ با سلسلہ تا ازل

تجھے لیتے رہیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جیتے رہیں گے

love whatsapp status- romantic poetry love
love whatsapp status- romantic poetry love

میں فنا ہوگیا اس کی ایک جھلک دیکھ کر

نہ جانے ہرروز ۔۔۔۔۔ آئینے پہ کیا گزرتی ہوگی

love whatsapp status- romantic poetry love
love whatsapp status- romantic poetry love

اس کا رخ مہتاب اس کے ہاتھ چوم لوں

جو بس چلے تو اس کی ہر بات چوم لوں

love whatsapp status- romantic poetry love
love whatsapp status- romantic poetry love

اوڑھ کر ہم تیری خوشبو اپنے اوپر

ہم بہت دیر تک خود کو نہیں ملتے

love whatsapp status- romantic poetry love
love whatsapp status- romantic poetry love

یہ چوڑیاں یہ کنگن یہ جھمکا یہ مہندی

سنگھار تو میرے ہیں پر طلبگار تیرے ہیں

love whatsapp status- romantic poetry love
love whatsapp status- romantic poetry love

بے سبب ۔۔۔بے وجہ ۔۔۔۔ بے ارادہ چاہا

ہم نے تمکو کتنا سادہ چاہا

love whatsapp status- romantic poetry love
love whatsapp status- romantic poetry love

محبت _________ دل نہیں مانگتی

محبت _________ دل نہیں مانگتی،
البتہ دل کی ________ “مہار” ضرور مانگ لیتی ہے . . .

محبت _________ اختیار بھی نہیں مانگتی،
البتہ آپ کے اختیار کے اندر چھپا “اعتبار” ضرور مانگ لیتی ہے . . .
محبت _________ پیار نہیں مانگتی،
مگر اس پیار کے پروں کا سوار ضرور مانگ لیتی ہے . . .

محبت آپ سے نیند کبھی نہیں مانگے گی ،
خواب ____________ مانگے گی

محبت ___________ سوال نہیں کرتی،
ہمیشہ “جواب” مانگے گی،
اور کبھی آپ سے یہ بھی نہیں کہے گی ،،
کہ صرف “میرے” ہو کے رہو . . . .
مگر!!
کبھی کسی اور کا ________ ہونے بھی تو نہیں دے گی،
بس ایسی ہی ہے محبت

>>>>>>>>>>

دل سے یا گلستاں سے آتی ہے
تیری خوشبو ۔۔۔۔ کہاں سے آتی ہے

کتنی مغرور ہے نسیمِ سحر
شاید اُس آستاں سے آتی ہے

خود وہی میرِ کارواں تو نہیں
بوئے گل ۔۔۔۔ کارواں سے آتی ہے

اُن کے قاصد کا منتظر ہوں میں
اے اجل ۔۔۔۔ تُو کہاں سے آتی ہے

ہو چکیں آزمائشیں اتنی
شرم اب ۔۔۔ امتحاں سے آتی ہے

عین دیوانگی میں یاد آیا
عقل عشقِ بُتاں سے آتی ہے

تیری آواز گاہ گاہ اے دوست
پردہء سازِ جاں سے آتی ہے

شکوہ کیسا کہ ہر بلا اے دوست
جانتا ہوں کہاں سے آتی ہے

دل سے مت سرسری گزر کہ رئیسؔ

یہ زمیں آسماں سے آتی ہے

>>>>>>>>>>>>>>>>>

میں نے تُم سے مُحبت کُچھ سوچ کر نہیں کی تھی “

” میں نے تُم سے مُحبت کُچھ سوچ کر نہیں کی تھی کے بدلے میں مُجھے بھی تُم سے مُحبت ملے گی ۔ ”
” کیونکہ میں جانتی تھی کہ تُم چاہے کُچھ ہو جائے کبھی بھی میرے نہیں ہو سکتے ۔ ”
” میں نے تو بس مُحبت کی تھی ، ہر غرض سے دور مطلب سے پاک ، میں نے تو بس چاہا ہی تھا تُمہیں ۔ ”
” تُم تو ایک پھول سے دوسرے پھول منڈلانے والے بھنور تھے ، یہ بات میں بھی جانتی تھی ۔ ”
” لیکن تُمہاری خطا بھی نہیں ، تُم نے کبھی کی ہی نہیں تھی تو تُمہیں کیسے پتہ ہو سکتا ہے کہ مُحبت ہے کیا ۔ “
” مُحبت تو ایمان کی طرح ہوتی ہے ۔ ”
” ایسا ایمان جو کائنات سے پہلے خُدا اور بندے کے درمیان قائم ہُوا ۔ ”
” اور پھر ” کُن ” سے لیکر ” فیکُون ” تک ہر چیز مُحبت کے رنگوں سے سجا دی گئی ۔ ”
” اور کتنے بد نصیب ہو تُم جو تُم ان رنگوں سے خالی ہو ۔ ”
” اور مُجھے رنگ دِیا گیا عقیدت کے تمام رنگوں میں ۔ ”
” لیکن یہ خلش شاید مرتے دم تک نہ جائے کہ تُمہیں جتنا چاہا تُم اُس چاہت کا ذرہ بھی ادا کر دیتے تو میں سرشار ہوتی ، میں تو پھر بھی تُمہاری ہوتی ۔ ” 💔🙂

>>>>>>>>>>>>

مجھے خاموش راہوں میں تیرا ساتھ چاہیے
تنہا ہے میرا ہاتھ ——— تیرا ہاتھ چاہیے

مجھے خاموش راہوں میں تیرا ساتھ چاہیے
تنہا ہے میرا ہاتھ ——— تیرا ہاتھ چاہیے

مجھ کو میرے مقدر پر اتنا یقین تو ہے
تجھ کو بھی میرے لفظ میری بات چاہیے

میں خود اپنی شاعری کو کیا اچھا کہوں
مجھ کو تیری تعریف , تیری داد چاہیے

احساسِ محبت تیرے ہی واسطے ہے لیکن
جنونِ عشق کو تیری ہر سوغات چاہیے

تو مجھ کو پانے کی خواہش رکھتا ہے شاید
لیکن مجھے جینے کے لیے تیری ہی ذات چاہیے

>>>>>>>>>>>>>>

مسیحا آپ ہیں زیرِ علاج ___ حیرت ہے
یہ کُوئے عشق کے اُلٹے روّاج __ حیرت ہے

مسیحا آپ ہیں زیرِ علاج ___ حیرت ہے
یہ کُوئے عشق کے اُلٹے روّاج __ حیرت ہے

مرے دماغ کی بابت ___ بُزُرگ کہتے ہیں
ذرا سے کھیت میں اتنا انّاج __ حیرت ہے

میں سخّت سہل پسند آدمی تھا، لیکن اب
برائے عشق مرے کام کاج ___ حیرت ہے

ہمارے ہاں تو “جو رُوٹھے اُسے مناتے ہیں”
تُمہارے ہاں نہیں ایسا روّاج ___ حیرت ہے

فرآز دل بھی دُکھاتے ہو ___ اور چاہتے ہو
ضمیر بھی نہ کرے احتجاج ___ حیرت ہے

>>>>>>>>>>>>>>>>>>>>

بلاشبہ تم بہت خوبصورت ہو
بس ہر ایک کے پاس وہ آنکھیں نہیں ہیں

بلاشبہ تم بہت خوبصورت ہو
بس ہر ایک کے پاس وہ آنکھیں نہیں ہیں
جو تمہاری خوبصورتی کو دیکھ سکیں
مگر ایک دن
تمہیں اس شخص سے نوازا جائے گا
جسکے پاس وہ بصارت ہو گی
جو تمہاری خوبصورتی کو دیکھ سکے گی
پھر تم دنیا بھر کیلئے
بھلے عام سی لڑکی رہو
مگر وہ تمہیں یہی کہہ کر پکارا کرے گا
سنو اے چاند سی لڑکی

____________________

ﺳﻨﻮ۔۔۔ !!!
ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ ﮨﻢ ﺳﮯ۔۔؟

ﺳﻨﻮ۔۔۔ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ ﮨﻢ ﺳﮯ۔۔؟
ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﻭﮦ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺗﻮ
ﻣﻨﺎﻧﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ۔۔ !
ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﺁﺝ ﺗﮏ ﮨﻢ ﺳﮯ۔۔
ﻣﺤﺒﺖ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ ﮨﮯ۔۔ !!!
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﮨﻮﺗﯽ۔۔؟
ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﮐﮯ ﺍﻃﺮﺍﻑ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ
ﺳﺨﺖ ﭘﮩﺮﮦ ﺗﮭﺎ ﺧﺰﺍﺅﮞ ﮐﺎ۔۔
ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﺷﮩﺮِ ﭘﺮﯾﺸﺎﮞ ﮐﯽ ﻓﺼﯿﻠﯿﮟ
ﺯﺭﺩ ﺑﯿﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﺪﯼ ﺗﮭﯿﮟ۔۔
ﺍﻭﺭ ﺍُﻥ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺗﮭﯽ،
ﻧﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﮭﻮﻝ ﺗﻢ ﺟﯿﺴﺎ۔۔ !
ﻣﮩﮏ ﺍﭨﮭﺘﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﯾﺪﮦ ﻭ ﺩﻝ
ﺟﺲ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺖ ﺳﮯ۔۔ !
ﮨﻢ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﺳﻨﺴﺎﻥ ﮔﻠﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﮐﺴﯽ ﺳﻮﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻭﯾﺮﺍﻥ
ﭘﺘّﮯ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﺗﮭﮯ۔۔
ﮐﮧ ﺟﺐ۔۔۔
ﻇﺎﻟﻢ ﮨﻮﺍ ﮨﻢ ﭘﺮ ﻗﺪﻡ ﺭﮐﮭﺘﯽ
ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ،
ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺩﻡ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺗﺎ۔۔ !!
ﻣﮕﺮ،
ﭘﺖ ﺟﮭﮍ ﮐﺎ ﻭﮦ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﻣﻮﺳﻢ۔۔
ﺳُﻨﺎ ﮨﮯ ﭨﻞ ﭼﮑﺎ ﺍﺏ ﺗﻮ۔۔
ﻣﮕﺮ ﺟﻮ ﮨﺎﺭ ﮨﻮﻧﺎ ﺗﮭﯽ،
ﺳﻮ ﻭﮦ ﺗﻮ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ﮨﻢ ﮐﻮ۔۔
ﺳﻨﻮ۔۔ !!
ﮨﺎﺭﮮ ﮨﻮﺋﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻮ
ﺭﻭﭨﮭﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ۔۔ !!!
ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺭﯼ ﭘﯿﺎ ..

Read more content :

Sad ghazals – sad ghazals collection

romantic 2 line poetry – love poetry

sad love poetry- sad poetry

4 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here