sad urdu ghazals in urdu- sad urdu ghazal status

مجھے شاخ شاخ سے توڑنا

 

مجھے شاخ شاخ سے توڑنا

پھر بیچ بیچ سے جوڑنا…
یہ ادا ادا بھی کمال ہے
یہ سزا سزا بھی کمال ہے…
یہ شام شام کے دھندلکے اور قطرہ قطرہ سی بارشیں
مجھے پیاس پیاس میں ڈال کے
پھر دشت دشت میں چھوڑنا
یہ اداس اداس اداسیاں
اور دور دور کی دوریاں
مجھے اشک اشک بکھیر کے
پھر ہنس ہنس کر سمیٹنا
یہ آگ آگ کا کھیل ہے
اسے روز روز نہیں کھیلنا
مجھے ورق ورق کھولنا
پھر حرف حرف پہ سوچنا
یہ جفا جفا کے راستے
اور وفا وفا کی منزلیں
مجھے ڈھونڈ ڈھونڈ کے ڈھونڈنا
پھر چھوڑ چھوڑ کے چھوڑنا
وہ چہرہ چہرہ حجاب ہے
مرے درد درد کا علاج ہے
مجھے دور دور سے دیکھنا
مجھے مرض مرض کا بھولنا
یہ ادا ادا بھی کمال ہے
یہ سزا سزا بھی کمال ہے ..!

ہونٹوں پہ ساحلوں کی طرح تشنگی رہی
میں چپ ہوا تو میری انا چیختی رہی

اک نام کیا لکھاتیرا ساحل کی ریت پر
پھر عمر بھر ہوا سے میری دشمنی رہی

سڑکوں پہ سرد رات رہی میری ہمسفر
آنکھوں میں میرے ساتھ تھکن جاگتی رہی

یادوں سے کھیلتی رہی تنہائی رات بھر
خوشبو کے انتظار میں شب بھیگتی رہی

وہ لفظ لفظ مجھ پہ اترتا رہا محسن
سوچوں پہ اس کے نام کی تختی لگی رہی

یہ تعلق بھی بہت خوب رہا ہے کچھ دن__!
تُو میرے نام سے منسوب رہا ہے کچھ دن__!

آنکھ رو رو کے تیری راہ تکا کرتی تھی____!
دل تیری یاد سے مغلوب رہا ہے کچھ دن___!

تیری تسبیح بنا کر تجھے سوچا کرنا___!
مشغلہ یہ میرا مرغوب رہا ہےکچھ دن____!

شاید اس بات کا مطلب میں سمجھ نہ پاؤں!
کیوں میرا دل تجھے مطلوب رہا ہے کچھ دن!

بارشِ سنگ سے پہلے یہ ذرا سوچ تو لیا ہوتا!
تیرا محسن تیرا محبوب رہا ہے کچھ دن___!

تمہارا آخری میسج میرے
انباکس میں رکھا ہے
اس میں تم نے لکھا ہے
مجھے اب بھول جانا تم
۔
جدائی پھانس بھی ہو تو
صبر سے جھول جانا تم
مجھے اپنی قسم دی ہے
میری تو جان لے لی ہے
۔
مگر میں جان دے کر بھی
آخر تک نبھاوں گا
میں تجھ کو بھول جاوں گا
۔
مگر تم سے میری فقط
یہ زرا سی گزارش ہے
میری آنکھوں میں مت رہنا

میرے دل سے اتر جانا
۔
بھلانے بھول جانے میں
میں تجھے یاد کرلوں تو
مجھے تم یاد نہ آنا
کبھی بھی یاد نہ آنا

چھوڑ جانے کو مری راہ میں آتا کیوں ہے
آ ہی جاتا ھے تو پھر چھوڑ کے جاتا کیوں ھے

آسرا اجنبی دیوار بھی دے دیتی ھے
یار شانے سے مرا ہاتھ ہٹاتا کیوں ھے

روز ہاتھوں سے ترے گر کے فنا ہوتا ھوں
دشتِِ ہستی سے مرا نقش اٹھاتا کیوں ھے

کس سے پوچھوں کہ شبِ ماہ نہ آنے والا
چاندنی بھیج کے اُمّید جگاتا کیوں ہے

میں تو ویسے ہی تجھے مٹ کے ملا کرتا ھوں
دل کے شیشے سے مرا عکس مٹاتا کیوں ہے

رائگانی میں کئی بار خدا سے پوچھا
میں اگر کچھ نہیں بنتا تو بناتا کیوں ہے

اب تو اُس آخری انکار کو مدت گذری
اب بھی اُس حسنِ جفا کیش سے ناتا کیوں ہے

لے پھر اب خود ہی اُٹھا قضیہء دین و دنیا
میری جب سُنتا نہیں ، بیچ میں لاتا کیوں ہے

sad urdu ghazals in urdu- sad urdu ghazal status
sad urdu ghazals in urdu- sad urdu ghazal status

 

Leave a Comment