Eid Poetry – Eid Ghazal- Eid Shayari

وہ جوعید ہوتی تھی

وہ جوعید ہوتی تھی گاؤں میں
وہ محبتوں سے گندھی ہوئی
جو ہوائیں چلتی تھیں گاؤں میں
کہیں سادہ سادہ سی زندگی 
کہیں شوخیاں تھیں فضاؤں میں
وہاں منزلیں بھی قریب تھیں ..!
جہاں کچے رستے تھے پاؤں میں
وہ بزرگ مل کے جو بیٹھتے ...!
کسی بوڑھے نیم کی چھاؤں میں
تو ہزار قضیے نپٹتے تھے......!!
کبھی بچوں میں کبھی ماؤں میں
وہ خوشی سے سجتے تھے بام ودر
کہ جب عید آتی تھی گاؤں میں
وہ کڑاہ چڑھتے تھے حلووں کے
وہ مٹھاس اُڑتی ہواؤں میں
کہیں عرق لگتے تھے ہاتھوں پر
کہیں مہندی سجتی تھی پاؤں میں
کبھی کپڑے سلتے تھے چاند رات
کبھی تارے ٹکتے رداؤں میں
وہ جو نار پھولوں میں تُلتی تھی
تھی وہ بھولی بھالی اداؤں میں
وہ جو خواب آنکھوں کو ڈس گئے
وہی لے اُڑے تھے فضاؤں میں ..!
کہ جو دور دیسوں میں کھو گئیے
اُنھیں مانگتے ہیں دُعاؤں میں ...!
ہائے...! وہ زمانے چلے گئے
کہ جب عید ہوتی تھی گاؤں میں
___________

عید آئی ہے

یہ ہاتھ رُخ سے ہٹاؤ کہ عید آئی ہے
نظر نظر سے ملاؤ کہ عید آئی ہے
سہیلیوں کے ، خریداری کے ، عزیزوں کے
کسی بہانے سے آؤ کہ عید آئی ہے
کسی کو دیکھ کے بے اِختیار میں نے کہا
چراغ گھی کے جلاؤ کہ عید آئی ہے
میں شرط باندھ چکا ہُوں ہِلالِ عید کے ساتھ
ذِرا نقاب ہٹاؤ کہ عید آئی ہے
دو لب ملیں گے ’’ محبت ‘‘ کا لفظ جو بھی کہے
سنو ! لبوں کو ملاؤ کہ عید آئی ہے
بہت سی باتوں کو ٹالا تھا عید کے دِن پر
حساب اَپنا چکاؤ کہ عید آئی ہے
میں جھوٹ موٹ کا ناراض ہو گیا ہُوں مجھے
گلے لگا کے مناؤ کہ عید آئی ہے
نہ میٹھا پان ، نہ کشمش ، نہ کھیر ، نہ مصری
کچھ اور میٹھا چکھاؤ کہ عید آئی ہے
حنا تو سب کو دِکھاتے ہو ، میں تو عاشق ہُوں
مزید کچھ تو دِکھاؤ کہ عید آئی ہے
وُہ بولی آپ ہیں میرے بزرگ ، میں نے کہا
تو پھر یہ پیر دَباؤ کہ عید آئی ہے
پرانے سارے بہانے ہیں قیسؔ کو اَزبر
نئے بہانے بناؤ کہ عید آئی ہے
______________

ﯾﮑﮭﺎﮞ ﻭﭺ ﻭﭼﮭﻮﮌﮮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﺍﺗﮭﺮﻭ ﺭﻭ ﺭﻭ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ 
ﺍﮎ ﻧﮧ ﻣﻨﺊ ﺍﻭﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﮨﺘﮫ ﻭﯼ ﻣﯿﺮﮮ ﺟﻮﮌﮮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ 
ﮨﻮﻥ ﺗﮯ ﺁﮐﮯ ﻣﻞ ﺟﺎ ﺳﺎﻧﻮﮞ !!
ﻋﯿﺪ ﻧﻮﮞ ﻭﯼ ﺩﻥ ﺗﮭﻮﮌﮮ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ
__________

لڑکیاں عید پر

ہیں دھنک رنگ سی لڑکیاں عید پر 
جیسے اڑتی ہوئی تتلیاں عید پر 
رنگ، خوشیاں، امنگوں سے آراستہ
ہیں منور سبھی بستیاں عید پر 
باہمی رنجشیں بھول کر آ ملو 
توڑ ڈالو سبھی بیڑیاں عید پر 
کاش آ جائے وہ جس کے ہیں منتظر 
میرا دل، بام و در، کھڑکیاں عید پر

__________

Us ne kaha
EiD aa rahi hai,,
Main ne kaha teri yaad rula rahi hai,,
Us ne kaha
Eid manaO gay?
Main ne kaha
kia tum awO gay?
Us ney kaha
rOna na Eid k din,
Main ne kaha
Rukty nahi ansOo tere bin,
Us ne kaha
udas na hOna
Eid k din,,
Main ne kaha
bara rulata hai
yeh din,,
Us ney kaha
kab tak na
karO gey Eid?
Main ne kaha
jab tak na
hOe teri DeeD,,

	

One Comment on “Eid Poetry – Eid Ghazal- Eid Shayari”

Leave a Reply

Your email address will not be published.